ہم سخن
صڈاکٹر صدف عوان

سوشل میڈیا کا طلسم اور ہماری بدلتی ہوئی سماجی اقدار

کالم۳۰ اکتوبر · ۷ منٹ

اسلام آباد کی ان خاموش اور سرسبز گلیوں میں، جہاں موسم اکثر خوشگوار رہتا ہے، اپنے کلینک کی کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوں تو مجھے محض بدلتے موسم ہی نہیں، بدلتے ہوئے انسانی رویے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ بطور معالج اور سماجی مشاہدہ نگار، گزشتہ دو دہائیوں میں میں نے لوگوں کی زندگیوں میں جو تبدیلی دیکھی ہے، وہ غیر معمولی ہے۔ یہ تبدیلی کسی جنگ یا قدرتی آفت کے نتیجے میں نہیں آئی، بلکہ ایک ایسے خاموش ڈیجیٹل انقلاب کا اثر ہے جسے ہم سوشل میڈیا کہتے ہیں۔ میرا مقصد ٹیکنالوجی کی مخالفت نہیں، بلکہ ان نفسیاتی اور سماجی اثرات کا جائزہ لینا ہے جو ہماری سوچ، ترجیحات اور معاشرتی اقدار کو مسلسل بدل رہے ہیں۔

سوشل میڈیا نے بلاشبہ فاصلے سمیٹ دیے ہیں۔ سات سمندر پار بیٹھے عزیزوں سے رابطہ اب چند لمحوں کا کام ہے، لیکن اس سہولت کے ساتھ ایک ایسا تضاد بھی سامنے آیا ہے جس پر غور کرنا ضروری ہے۔ ہم نے دور بیٹھے لوگوں تک رسائی تو حاصل کر لی، مگر اپنے قریب موجود رشتوں کو وقت دینا کم کر دیا ہے۔ اکثر ایک ہی گھر میں پورا خاندان موجود ہوتا ہے، لیکن ہر فرد اپنے موبائل کی اسکرین میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ وہ بے تکلف گفتگو، خاندانی قہقہے اور آنکھوں سے ہونے والا رابطہ، جو کبھی رشتوں کو مضبوط بناتے تھے، رفتہ رفتہ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یوں رابطوں کی کثرت کے باوجود حقیقی قربت میں کمی اور تنہائی میں اضافہ ہمارے معاشرتی تجربے کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

اس ڈیجیٹل تبدیلی کا ایک گہرا اثر انسانی ذہن پر بھی مرتب ہو رہا ہے۔ میرے پاس آنے والے مریضوں، خصوصاً نوجوانوں میں ذہنی اضطراب، احساسِ محرومی اور ڈپریشن سے متعلق شکایات دیکھ کر تشویش ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہمیں عموماً دوسروں کی زندگیوں کے خوب صورت اور منتخب لمحے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم ان تصویروں اور خوش گوار مناظر کا موازنہ اپنی حقیقی زندگی سے کرنے لگتے ہیں، حالاں کہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان تصاویر کے پیچھے کتنی حقیقت اور کتنا دکھاوا ہے۔ یہی غیر حقیقی موازنہ انسان کو اپنی زندگی سے غیر مطمئن کرنے لگتا ہے۔ اسی کیفیت سے جڑا ایک تصور ’’فومو‘‘ (FOMO)، یعنی کسی چیز یا تجربے سے محروم رہ جانے کا خوف، بھی ہے۔ ہر وقت یہ اندیشہ کہ کہیں کوئی خبر، ٹرینڈ یا اہم سرگرمی ہماری نظروں سے نہ رہ جائے، ذہنی سکون متاثر کرتا ہے۔ مزید یہ کہ جب انسان اپنی قدر و قیمت کو لائیکس، کمنٹس اور فالوورز سے ناپنے لگے تو اس کی خود اعتمادی بھی دوسروں کی توجہ کی محتاج ہو جاتی ہے۔

سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو آسان ضرور بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ درست اور غلط معلومات میں فرق کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ غیر مصدقہ خبریں، افواہیں اور ادھوری معلومات چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ جاتی ہیں۔ افسوس کہ ہم میں سے بہت سے لوگ تحقیق کیے بغیر ایسی معلومات دوسروں کو بھیج دیتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشرے میں بے یقینی اور انتشار بھی بڑھتا ہے۔ سیاسی اور مذہبی اختلافِ رائے بھی اکثر دلیل کے بجائے ذاتی حملوں اور تلخ کلامی میں بدل جاتا ہے۔ اختلاف کسی بھی معاشرے کا فطری حصہ ہے، مگر جب ہم دوسرے کی بات سننے اور اس کے مؤقف کو سمجھنے کا حوصلہ کھو دیں تو مکالمے کی جگہ محاذ آرائی لے لیتی ہے۔

اس صورتِ حال کا ایک نمایاں اثر ہماری نوجوان نسل کی روزمرہ زندگی میں دکھائی دیتا ہے۔ مسلسل مختصر ویڈیوز اور تیز رفتار ڈیجیٹل مواد کے استعمال سے یکسوئی اور طویل وقت تک کسی کام پر توجہ برقرار رکھنے کی عادت متاثر ہو سکتی ہے۔ کتاب پڑھنے، کھیلنے، دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے اور دیگر جسمانی سرگرمیوں کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ رات گئے تک اسکرین استعمال کرنے سے نیند کا معمول بھی متاثر ہوتا ہے، جبکہ آنکھوں کی تھکن اور جسمانی سستی جیسے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ اس معاملے میں والدین کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ بعض اوقات بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے موبائل فون تھما دیا جاتا ہے، مگر اس بات پر توجہ نہیں دی جاتی کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں اور ان کی آن لائن سرگرمیاں کس نوعیت کی ہیں۔ بچوں کو محض اسکرین سے دور رکھنا کافی نہیں؛ انہیں محفوظ، صحت مند اور بامقصد مصروفیات فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

تاہم سوشل میڈیا کی تصویر کا مثبت رخ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس پلیٹ فارم نے ان لوگوں اور طبقات کو بھی اپنی بات کہنے کا موقع دیا ہے جن کی آواز ماضی میں اکثر نظر انداز کر دی جاتی تھی۔ کسی مظلوم کے حق میں آواز اٹھانا ہو، گمشدہ افراد کی تلاش میں مدد دینی ہو یا ضرورت مندوں تک امداد پہنچانی ہو، سوشل میڈیا کئی مواقع پر مؤثر ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ اس کے ذریعے تعلیم، روزگار اور کاروبار کے نئے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ بہت سے افراد نے اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور ایسے مواقع حاصل کیے جو شاید روایتی ذرائع سے ان کی دسترس میں نہ ہوتے۔ اس لیے مسئلہ ٹیکنالوجی کی موجودگی نہیں، بلکہ اس کے استعمال کے انداز اور ہماری ترجیحات کا ہے۔ ٹیکنالوجی ہمارے کام آسان بنانے کا ذریعہ ہونی چاہیے، ہماری زندگیوں کو کنٹرول کرنے والی قوت نہیں۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے استعمال میں شعوری توازن پیدا کریں۔ ’’ڈیجیٹل ڈیٹوکس‘‘ یعنی کچھ وقت کے لیے اسکرین اور آن لائن مصروفیات سے فاصلہ اختیار کرنا اسی کوشش کا ایک طریقہ ہے۔ ہمیں اپنے دن میں ایسے اوقات ضرور مختص کرنے چاہییں جن میں موبائل فون کے بجائے خاندان، دوستوں، مطالعے اور اپنی ذات کو وقت دیا جائے۔ خصوصاً والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے خود بھی اسکرین کے متوازن استعمال کی مثال قائم کریں۔ اسلام آباد کی پہاڑیوں سے آتی تازہ ہوا، شام کی چائے پر دوستوں کا قہقہہ اور کسی اچھی کتاب کے اوراق کی خوشبویہ چھوٹے مگر حقیقی تجربات زندگی کو وہ سکون دیتے ہیں جسے کسی اسٹیٹس اپ ڈیٹ یا لائیک سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ بطور ڈاکٹر صدف، میری آپ سب سے یہی گزارش ہے کہ ٹیکنالوجی سے فائدہ ضرور اٹھائیں، مگر اپنی حقیقی زندگی، اپنے رشتوں اور ذہنی سکون کی قیمت پر نہیں۔ کبھی اسکرین بند کر کے اپنے آس پاس موجود لوگوں کو دیکھیے، ان کی بات سنیے اور زندگی کو اس کی اصل خوب صورتی کے ساتھ محسوس کیجیے۔

صڈاکٹر صدف عوان

ڈاکٹر صدف عوان اسلام آباد ۔