آنے والے طوفان کی آہٹ
تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگیں ہمیشہ سرحدوں پر توپوں کی گھن گرج سے شروع نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات ان کی پہلی علامت خاموش گوداموں، غیر معمولی سرکاری پالیسیوں اور بند کمروں میں ہونے والے ان فیصلوں میں چھپی ہوتی ہے جن کا مقصد آنے والے بحرانوں سے پہلے خود کو محفوظ بنانا ہوتا ہے۔ آج اگر عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے رجحانات کو غور سے دیکھا جائے تو ایک اہم تبدیلی نمایاں ہوتی ہے: دنیا کی بڑی طاقتیں صرف اپنی فوجی صلاحیت بڑھانے پر توجہ نہیں دے رہیں، بلکہ خوراک، پانی، توانائی اور بنیادی شہری نظاموں کے تحفظ کو بھی قومی سلامتی کا لازمی حصہ بنا رہی ہیں۔ یہ تیاری محض میزائلوں اور جدید ہتھیاروں تک محدود نہیں؛ اس کا تعلق ان بنیادی ضروریات سے ہے جن کے بغیر کوئی فوج، معیشت یا ریاست زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ ان میں سب سے اہم خوراک اور پانی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ دنیا میں اگلی عالمی جنگ کب شروع ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ اگر عالمی نظام کسی بڑے بحران سے دوچار ہو گیا تو کون سی ریاست اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات برقرار رکھنے کے قابل ہوگی؟
چین اس نئی حقیقت کو سمجھنے والے ممالک میں نمایاں ہے۔ اپنی طویل المدتی منصوبہ بندی کے لیے معروف بیجنگ نے کئی برسوں سے غذائی تحفظ کو قومی سلامتی کا اہم ستون بنا رکھا ہے۔ عالمی زرعی اعداد و شمار کے مطابق چین کے پاس مکئی، گندم اور چاول کے بڑے ذخائر موجود ہیں، اور بعض تخمینوں میں ان اجناس کے عالمی ذخائر کا نصف یا اس سے بھی زیادہ حصہ چین کے پاس ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ تاہم اس حقیقت کو درست تناظر میں سمجھنا ضروری ہے: یہ تمام ذخائر عالمی منڈی سے خریداری کے نتیجے میں جمع نہیں ہوئے، بلکہ ان میں چین کی اپنی وسیع زرعی پیداوار اور حکومتی ذخیرہ اندوزی دونوں شامل ہیں۔ اس پالیسی کے پیچھے بڑھتی ہوئی آبادی، عالمی منڈیوں میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ، موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض اور ممکنہ تجارتی پابندیوں جیسے خدشات کارفرما ہیں۔ چین کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس کے شہریوں کو آج خوراک دستیاب ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اگر عالمی تجارت کئی ماہ تک متاثر رہے تو کیا وہ اپنی آبادی کی ضروریات پوری کر سکے گا؟
چین کی اس حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو سمندری راستوں پر اس کا انحصار ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہونے کے باوجود چین اپنی توانائی اور متعدد خام مال کی ضروریات کے لیے بیرونی سپلائی پر انحصار کرتا ہے۔ آبنائے ملاکا جیسے اہم بحری راستے اس کی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی بڑی طاقت کے ساتھ فوجی تصادم، سمندری ناکہ بندی یا عالمی پابندیوں کی صورت میں یہی راستے اس کی کمزوری بن سکتے ہیں۔ اسی لیے غذائی ذخائر کو محض زرعی پالیسی نہیں بلکہ وسیع تر تزویراتی منصوبہ بندی کے حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ چین نے لازماً مستقبل قریب کی جنگ کو سامنے رکھ کر یہ تمام ذخائر جمع کیے ہیں۔ ریاستیں اکثر جنگ کے امکان کے علاوہ کئی دوسرے خطرات کے پیشِ نظر بھی ذخائر قائم کرتی ہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ بیجنگ خوراک کو ایسی قومی ضرورت سمجھتا ہے جسے مکمل طور پر عالمی منڈی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
دوسری جانب یورپ میں بھی شہری تحفظ کے تصور میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ یوکرین کی جنگ، توانائی کے بحران، سائبر حملوں کے خطرات اور اہم بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں نے یورپی حکومتوں کو اس سوال پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے کہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں عام شہری کتنے دن تک حکومتی امداد کے بغیر اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ سویڈن نے اپنے شہریوں کو ہنگامی حالات کے لیے کم از کم ایک ہفتے تک خود انحصاری کی تیاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس میں پینے کا پانی، خوراک، ادویات، بیٹریاں، روشنی کے متبادل ذرائع اور ضروری معلومات تک رسائی شامل ہے۔ برطانیہ سمیت دوسرے یورپی ممالک میں بھی ہنگامی تیاری اور شہری تحفظ سے متعلق رہنمائی دی جاتی رہی ہے۔ یہ اقدامات کسی یقینی جنگ کی پیش گوئی نہیں، بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ جدید معاشروں کا روزمرہ نظام بظاہر مضبوط ہونے کے باوجود کئی ایسے بنیادی ڈھانچوں پر منحصر ہے جن میں ایک بڑی خرابی پورے معاشرے کو متاثر کر سکتی ہے۔
جدید جنگ کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اب دشمن کو شکست دینے کے لیے صرف اس کی فوج کو نشانہ بنانا ضروری نہیں رہا۔ بجلی کا نظام، مواصلاتی نیٹ ورک، پانی کی فراہمی، بینکاری، بندرگاہیں اور خوراک کی ترسیل بھی کسی ریاست کی سلامتی کے اہم حصے بن چکے ہیں۔ سائبر حملوں یا اہم تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے ذریعے کسی ملک کی معمول کی زندگی مفلوج کی جا سکتی ہے، خواہ اس کی سرحدوں پر کوئی بڑی زمینی جنگ نہ بھی ہو رہی ہو۔ ایک بڑے شہر میں بجلی کی طویل بندش صرف روشنی کا مسئلہ نہیں رہتی؛ اس سے ہسپتال، پانی کی فراہمی، سرد خانوں میں محفوظ خوراک، مواصلاتی نظام اور شہری نقل و حرکت سب متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے شہری دفاع کا جدید تصور اب صرف فضائی حملوں سے بچاؤ تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ریاستی نظام کے تسلسل اور عام آبادی کی بنیادی ضروریات برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی شامل ہو چکی ہے۔
خوراک بھی اب محض ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ تزویراتی اثاثہ ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ نے دنیا کو دکھایا کہ دو اہم زرعی ممالک کے درمیان تنازع عالمی غذائی منڈیوں کو کس حد تک متاثر کر سکتا ہے۔ گندم، مکئی، سورج مکھی کے تیل اور کھاد کی فراہمی میں رکاوٹ نے کئی ممالک میں قیمتوں اور درآمدی اخراجات کو بڑھا دیا۔ اس بحران نے خاص طور پر ان غریب ممالک کو متاثر کیا جو اپنی غذائی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ اس سے ایک بنیادی حقیقت واضح ہوئی: جس ریاست کے پاس خوراک کی مقامی پیداوار، مناسب ذخائر اور متبادل درآمدی ذرائع موجود نہ ہوں، وہ عالمی بحران کے دوران دوسروں کے فیصلوں اور منڈیوں کے اتار چڑھاؤ کے سامنے زیادہ کمزور ہو جاتی ہے۔ جدید ترین ٹینک اور لڑاکا طیارے بھی اس بنیادی ضرورت کا متبادل نہیں بن سکتے کہ عوام کو کھانا دستیاب ہو۔
اسی تجربے نے حکومتوں کو یہ سمجھنے پر مجبور کیا ہے کہ غذائی تحفظ صرف اناج کے گودام بھرنے کا نام نہیں۔ اس میں بیجوں کی دستیابی، کھاد کی پیداوار، زرعی مشینری، ایندھن، سرد خانوں اور نقل و حمل کے نظام کا تحفظ بھی شامل ہے۔ کسی ملک کے پاس لاکھوں ٹن گندم موجود ہو، لیکن اسے ملوں تک پہنچانے کے لیے ایندھن یا بجلی دستیاب نہ ہو تو یہ ذخیرہ فوری طور پر عوام کی ضرورت پوری نہیں کر سکتا۔ اسی طرح فصل کی پیداوار متاثر ہو جائے یا کھاد کی درآمد رک جائے تو اگلے موسم کی غذائی فراہمی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس لیے حقیقی غذائی خودمختاری کا مطلب صرف پیداوار بڑھانا نہیں، بلکہ بیج سے لے کر صارف تک پورے نظام کو فعال رکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
پانی کا معاملہ خوراک سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ اسے گندم کی طرح برسوں تک ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی فراہمی کا انحصار دریاؤں، زیرِ زمین ذخائر، بارشوں، ڈیموں، پائپ لائنوں اور پانی صاف کرنے کے نظام پر ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں پانی کی قلت پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، اور موسمیاتی تبدیلی نے اس خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خشک سالی، غیر متوقع بارشیں، دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی اور آبادی میں اضافہ پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پانی صرف انسانی ضرورت نہیں رہتا بلکہ زراعت، صنعت، توانائی اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا معاملہ بن جاتا ہے۔ خاص طور پر ان ممالک کے لیے یہ مسئلہ زیادہ حساس ہے جہاں شہری آبادی کا بڑا حصہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور محدود آبی ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔
مستقبل کے تنازعات میں پانی کے نظام کو نشانہ بنانا بھی ایک سنگین خطرہ ہو سکتا ہے۔ کسی ڈیم، پمپنگ اسٹیشن یا پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو نقصان پہنچنے سے ایک پورے شہر کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ لیکن اس خطرے کو صرف جنگی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھنا بھی ناکافی ہوگا۔ پانی کی قلت کے پیچھے اکثر سرحد پار دریاؤں کی تقسیم، ناقص انتظام، غیر مؤثر زرعی نظام، زیرِ زمین پانی کا بے تحاشا استعمال اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے پانی کے تحفظ کے لیے صرف سکیورٹی حصار کافی نہیں؛ بہتر آبی انتظام، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، پانی کے ضیاع میں کمی، متبادل ذرائع اور علاقائی تعاون بھی ضروری ہیں۔ جو ریاستیں ان مسائل کو نظرانداز کریں گی، انہیں مستقبل میں صرف جنگ نہیں بلکہ معمول کے حالات میں بھی شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس پورے منظرنامے کا ایک تشویشناک پہلو ترقی پذیر ممالک کی کمزور تیاری ہے۔ دنیا کے کئی غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک اپنی غذائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں، ان کے پاس محدود زرِ مبادلہ ہوتا ہے اور عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کی صورت میں ان کے لیے خوراک خریدنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ان ممالک میں آبادی کا بڑا حصہ اپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے، اس لیے معمولی مہنگائی بھی گھریلو زندگی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ سوال خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں زراعت معیشت کا اہم حصہ ہونے کے باوجود پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلی، زرعی پیداوار کے مسائل، ذخیرہ کرنے کی ناکافی سہولتیں اور درآمدی دباؤ مسلسل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ غذائی تحفظ صرف گندم کی فصل اچھی ہونے سے حاصل نہیں ہوتا؛ اس کے لیے کسان، منڈی، ذخیرہ، نقل و حمل اور قیمتوں کے نظام کو بھی مستحکم بنانا پڑتا ہے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: قومی ذخائر قائم کرنا اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی کرنا ایک چیز نہیں۔ ریاستی سطح پر مناسب غذائی ذخائر کسی بحران میں عوام کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں، لیکن اگر ذخائر کے اعداد و شمار غیر شفاف ہوں، منڈی میں مصنوعی قلت پیدا کی جائے یا خوراک چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے تو یہی عمل قیمتوں میں اضافے اور عوامی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ہر ملک کو ذخائر کی مقدار کے ساتھ ان کی تقسیم، نگرانی اور ہنگامی حالات میں استعمال کا واضح نظام بھی بنانا چاہیے۔ حقیقی تیاری وہ ہے جو بحران کے وقت عام شہری تک فائدہ پہنچائے، نہ کہ صرف سرکاری اعداد و شمار میں کامیابی دکھائی دے۔
آنے والے برسوں میں قومی طاقت کو صرف فوجی بجٹ، میزائلوں کی تعداد یا جدید ٹیکنالوجی سے نہیں ناپا جا سکے گا۔ اس کا ایک پیمانہ یہ بھی ہوگا کہ کوئی ریاست بحران کے دوران اپنے اداروں اور بنیادی خدمات کو کتنی دیر تک فعال رکھ سکتی ہے۔ کیا اس کے ہسپتال بجلی کے بغیر کام جاری رکھ سکتے ہیں؟ کیا پانی کی فراہمی کے لیے متبادل انتظام موجود ہے؟ کیا خوراک ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچانے کے راستے محفوظ ہیں؟ کیا ہنگامی حالات میں حکومت کے پاس درست معلومات اور فوری فیصلے کرنے کا مؤثر نظام ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو کسی ریاست کی حقیقی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ محض وسائل کی موجودگی کافی نہیں؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انہیں بحران کے وقت کتنی مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ممکن ہے دنیا کسی نئی عالمی جنگ کی طرف نہ بڑھ رہی ہو، لیکن یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بڑی طاقتیں بدترین حالات کے لیے اپنی تیاریوں کو پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ ان کی پالیسیوں سے واضح ہوتا ہے کہ خوراک، پانی اور بنیادی شہری نظاموں کا تحفظ اب قومی سلامتی کے مرکزی موضوعات میں شامل ہو چکا ہے۔ یہ کسی آنے والی تباہی کی قطعی پیش گوئی نہیں، بلکہ بدلتی ہوئی دنیا کا ایک سبق ہے: امن کے زمانے میں کی گئی تیاری ہی بحران کے وقت ریاستوں کی اصل طاقت ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی اب ضروری ہے کہ وہ وقتی سیاسی ترجیحات سے آگے بڑھ کر زرعی پیداوار، آبی وسائل، ذخیرہ گاہوں اور ہنگامی انتظامات کو قومی پالیسی کا مستقل حصہ بنائیں۔ کیونکہ جب عالمی منڈیاں بند ہوں، رسد کے راستے منقطع ہوں اور بنیادی ضروریات کی فراہمی خطرے میں پڑ جائے تو اس وقت سب سے بڑی دولت نہ سونا ہوگی، نہ تیل اور نہ جدید ہتھیار؛ سب سے بڑی دولت وہ روٹی اور پانی ہوگا جو آپ اپنے لوگوں تک پہنچا سکیں۔
منصور علی لاہور سے ۔