نئے عالمی نظام کا ٹرائل رن؟
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انسان جس نظام پر سب سے زیادہ اندھا اعتماد کرتا ہے، وہی نظام آخر میں اس کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتا ہے۔ آج کی مہذب اور ترقی یافتہ دنیا کو اپنے 'ڈیجیٹل انقلاب' پر بڑا ناز ہے، جہاں بٹن دبانے سے اربوں ڈالر ادھر سے ادھر منتقل ہو جاتے ہیں اور انسان خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ لیکن اگر آپ عالمی سیاست اور ٹیکنالوجی کی گہری تہوں میں جھانک کر دیکھیں، تو ایک خاموش اور خوفناک سائے کو آگے بڑھتے ہوئے محسوس کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسے دور کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کمپیوٹر کی اسکرین پر نظر آنے والے کروڑوں روپے صرف ایک 'کلک' کے فاصلے پر تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائیں گے؟
ورلڈ اکنامک فورم کے بند کمروں سے نکلنے والی آوازیں اب دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہیں۔ فورم کے بانی کلاؤس شواب نے جب پہلی بار "سائبر پینڈمک" یا ڈیجیٹل وبا کی اصطلاح استعمال کی، تو بہت سے لوگوں نے اسے محض ایک فرضی کہانی سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ لیکن جب سوئٹزرلینڈ کے شہروں میں دنیا کے بڑے مالیاتی اداروں نے مل کر 'سائبر پولیگون' جیسی مشقیں کیں جن میں یہ دیکھا گیا کہ اگر ایک رات دنیا کا پورا بینکنگ نظام مفلوج ہو جائے تو کیا ہوگا تو معلوم ہوا کہ پسِ پردہ معاملہ کچھ اور ہے۔ یہ مشقیں بتاتی ہیں کہ عالمی طاقتیں اس دن کی تیاری کر رہی ہیں جب روایتی بینک بند ہوں گے اور معیشت کا سارا کنٹرول کسی نئے ہاتھ میں چلا جائے گا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رپورٹس کو اگر آپ باریک بینی سے پڑھیں، تو وہ کسی سازشی نظریے پر نہیں بلکہ ٹھوس معاشی حقائق پر مبنی ہوتی ہیں۔ آئی ایم ایف نے بارہا خبردار کیا ہے کہ موجودہ مالیاتی نظام کلاؤڈ سسٹمز اور انٹرنیٹ کے ایک ایسے نازک جال پر کھڑا ہے، جس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔ فرض کیجئے کہ کسی دن دنیا کے مرکزی سوئفٹ نظام پر کوئی بڑا، منظم سائبر حملہ ہو جاتا ہے، تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ نتیجہ یہ ہوگا کہ بینکوں کے پاس موجود ڈیجیٹل لیجر (کھاتوں کا ریکارڈ) صاف ہو جائے گا، اور صبح کا سورج طلوع ہونے تک کوئی شخص یہ ثابت نہیں کر سکے گا کہ اس کے پاس کتنے اثاثے موجود تھے۔
لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہونا ممکن ہے؟ اس کا جواب ہمیں ماضی اور حال کے تلخ واقعات سے ملتا ہے۔ مائیکروسافٹ اور کراؤڈ اسٹرائیک کی حالیہ تکنیکی خرابی ہو، یا اکتوبر 2026 میں بائیننس جیسے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج پر ہونے والا 6.3 ارب ڈالر کا اب تک کا سب سے بڑا سائبر حملہ یہ تمام واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈیجیٹل قلعہ جتنا مضبوط دکھائی دیتا ہے، اندر سے اتنا ہی کھوکھلا ہے۔ پلک جھپکتے ہی اربوں ڈالر کا غائب ہو جانا کوئی جادو نہیں، بلکہ اس ڈیجیٹل دور کی وہ تلخ حقیقت ہے جس کا سامنا کسی بھی عام شہری کو کرنا پڑ سکتا ہے۔
ہالی ووڈ کی اسٹریٹجک فلمیں، جیسے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی پروڈکشن میں بننے والی "Leave the World Behind"، تفریح کے لیے نہیں بنائی جاتیں۔ نفسیاتی ماہرین اسے 'پریڈکٹیو پروگرامنگ' کہتے ہیں، جس کا مقصد عوام کے ذہنوں کو ایک ایسی بدترین صورتحال کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے جو شاید مستقبل میں حقیقت کا روپ دھارنے والی ہو۔ جب فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ اچانک انٹرنیٹ غائب ہو گیا، کریڈٹ کارڈز نے کام کرنا بند کر دیا اور امیر ترین لوگ ایک برگر کے لیے سڑکوں پر خوار ہونے لگے، تو یہ دراصل اس نظام کی کمزوری کا ایک علامتی اعتراف ہوتا ہے جس پر ہم سب تکیہ کیے بیٹھے ہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں سہولت تو دی، لیکن ہماری بقا کو چند تاروں اور سرورز کا محتاج کر دیا۔ وہ دور دور نہیں جب دنیا کو احساس ہوگا کہ اصل دولت وہ نہیں تھی جو اسکرین پر ہندسوں کی شکل میں چمک رہی تھی، بلکہ اصل اثاثہ وہ زمین، سونا اور اناج ہے جسے کوئی ہیکر چوری نہیں کر سکتا۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے امیر ترین ممالک اپنے دفاعی نظام کو کیش لیس سے دوبارہ روایتی اثاثوں کی طرف موڑ رہے ہیں، ہم جیسے ترقی پذیر ممالک اب بھی اسی کاغذی اور ڈیجیٹل غرور کے سہارے جی رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طوفان آتا ہے، تو وہ کسی کی دولت کا رعب نہیں دیکھتا، بلکہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ کس کے پاؤں زمین پر مضبوطی سے ٹکے ہوئے ہیں۔
منصور علی لاہور سے ۔